Google: Hackers used AI to create zero-day exploit
![]() |
| Google: Hackers used AI to create zero-day exploit |
گوگل کا انکشاف: ہیکرز نے زیرو ڈے ایکسپلائٹ
بنانے کے لیے اے آئی کا استعمال شروع کر دیا
دنیا بھر میں سائبر سیکیورٹی کے خطرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں، لیکن اب ایک نئی اور زیادہ خطرناک پیش رفت سامنے آئی ہے۔ گوگل کے مطابق ہیکرز اب مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کا استعمال کرتے ہوئے “زیرو ڈے ایکسپلائٹس” تیار کر رہے ہیں۔ یہ انکشاف ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑے خطرے کی گھنٹی سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے سائبر حملے پہلے سے کہیں زیادہ تیز، پیچیدہ اور خطرناک ہو سکتے ہیں۔
زیرو ڈے ایکسپلائٹ کیا ہوتا ہے؟
زیرو ڈے ایکسپلائٹ ایک ایسا سیکیورٹی نقص یا خامی ہوتی ہے جس کے بارے میں سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی کو ابھی تک علم نہیں ہوتا۔ چونکہ کمپنی اس خامی سے بے خبر ہوتی ہے، اس لیے اس کا کوئی حفاظتی اپڈیٹ یا پیچ موجود نہیں ہوتا۔ ہیکرز اسی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سسٹمز پر حملہ کرتے ہیں۔
یہ حملے انتہائی خطرناک سمجھے جاتے ہیں کیونکہ صارفین یا اداروں کے پاس دفاع کے لیے بہت کم وقت ہوتا ہے۔ بینکنگ سسٹمز، سرکاری ادارے، موبائل فونز، کمپیوٹرز اور حتیٰ کہ کلاؤڈ سروسز بھی اس قسم کے حملوں کا شکار بن سکتی ہیں۔
اے آئی کس طرح ہیکرز کی مدد کر رہی ہے؟
گوگل کے سایبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق ہیکرز اب جدید اے آئی ٹولز استعمال کر کے کوڈ کا تجزیہ کر رہے ہیں، خامیاں تلاش کر رہے ہیں اور خودکار طریقے سے حملے تیار کر رہے ہیں۔ پہلے کسی سسٹم میں کمزوری تلاش کرنے میں ہفتے یا مہینے لگ سکتے تھے، لیکن اب اے آئی کی مدد سے یہ کام چند گھنٹوں میں ممکن ہو رہا ہے۔
اے آئی کی مدد سے ہیکرز:
سافٹ ویئر کے کوڈ میں پوشیدہ خامیاں جلد تلاش کر سکتے ہیں
فِشنگ ای میلز زیادہ حقیقت پسندانه بنا سکتے ہیں
مالویئر کو خودکار طریقے سے تبدیل کر سکتے ہیں
سیکیورٹی سسٹمز کو چکمہ دینے والے حملے تیار کر سکتے ہیں
یہ صورتحال سائبر سیکیورٹی ماہرین کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔
گوگل کی وارنینگ
گوگل نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں اے آئی سے چلنے والے سائبر حملے مزید بڑھ سکتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق ہیکرز نہ صرف اے آئی کو استعمال کر رہے ہیں بلکہ وہ ایسے ٹولز بھی بنا رہے ہیں جو خود سے کمزوریاں تلاش کر کے حملے کر سکیں۔
گوگل کے ماہرین نے کہا کہ اگر ٹیکنالوجی کمپنیاں فوری اقدامات نہ کریں تو عالمی سطح پر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ خاص طور پر وہ ادارے جو پرانے سافٹ ویئر استعمال کرتے ہیں، زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
صارفین کے لیے خطرات
عام انٹرنیٹ صارفین بھی اس خطرے سے محفوظ نہیں ہیں۔ اگر ہیکرز اے آئی کے ذریعے نئے زیرو ڈے ایکسپلائٹس بناتے رہے تو:
ذاتی ڈیٹا چوری ہو سکتا ہے
بینک اکاؤنٹس ہیک ہو سکتے ہیں
موبائل فونز اور کمپیوٹر متاثر ہو سکتے ہیں
سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر قبضہ کیا جا سکتا ہے
اسی لیے ماہرین صارفین کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
خود کو کیسے محفوظ رکھیں؟
سائبر حملوں سے بچنے کے لیے چند اہم اقدامات ضروری ہیں:
1. سافٹ ویئر اپڈیٹ رکھیں
اپنے موبائل، کمپیوٹر اور ایپس کو ہمیشہ تازہ ترین اپڈیٹس کے ساتھ استعمال کریں۔
2. مضبوط پاس ورڈ استعمال کریں
کمزور پاس ورڈ ہیکرز کے لیے آسان ہدف ہوتے ہیں۔ ہر اکاؤنٹ کے لیے مختلف اور مضبوط پاس ورڈ بنائیں۔
3. ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن فعال کریں
یہ اضافی سیکیورٹی تہہ آپ کے اکاؤنٹس کو زیادہ محفوظ بناتی ہے۔
4. مشکوک لنکس سے بچیں
نامعلوم ای میلز یا لنکس پر کلک نہ کریں کیونکہ یہ فِشنگ حملے ہو سکتے ہیں۔
5. اینٹی وائرس اور سیکیورٹی ٹولز استعمال کریں
اچھی سیکیورٹی ایپس کئی خطرات کو پہلے ہی روک سکتی ہیں۔
اے آئی: فائدہ یا خطرہ؟
مصنوعی ذہانت نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں بے شمار آسانیاں پیدا کی ہیں، لیکن اس کا غلط استعمال بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ایک طرف اے آئی بیماریوں کی تشخیص، تعلیم اور کاروبار میں مدد کر رہی ہے، تو دوسری طرف یہی ٹیکنالوجی سائبر جرائم کے لیے بھی استعمال ہو رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں “اے آئی بمقابلہ اے آئی” کی جنگ دیکھنے کو مل سکتی ہے، جہاں سیکیورٹی کمپنیاں بھی اے آئی استعمال کریں گی اور ہیکرز بھی۔
نتیجہ
گوگل کی یہ رپورٹ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ سائبر سیکیورٹی کا مستقبل مزید پیچیده ہونے والا ہے۔ ہیکرز آب روایتی طریقوں کے بجائے مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جس سے زیرو ڈے حملوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ایسے میں ٹیکنالوجی کمپنیوں، حکومتوں اور عام صارفین سب کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ رہنے کے لیے صرف جدید ٹیکنالوجی کافی نہیں، بلکہ بروقت احتیاط اور آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے۔

Post a Comment