0

امریکہ۔ایران 14 نکاتی معاہدہ



امریکہ۔ایران 14 نکاتی معاہدہ 

امریکہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق یہ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (MOU) دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مستقبل میں ایک جامع معاہدے کی راہ ہموار کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔

1۔ فوری اور مستقل جنگ بندی

امریکہ، ایران اور ان کے اتحادی تمام فوجی کارروائیاں فوری طور پر بند کریں گے۔

2۔ ایک دوسرے پر حملہ نہ کرنے کا عہد

دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی سے گریز کریں گے۔

3۔ خودمختاری کا احترام

امریکہ اور ایران ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔

4۔ 60 روزہ مذاکراتی عمل

ایک حتمی اور جامع معاہدے کے لیے سوئٹزرلینڈ میں 60 دن تک مذاکرات جاری رہیں گے۔

5۔ بحری پابندیوں کا خاتمہ

ایران کے خلاف عائد امریکی بحری ناکہ بندی کو مرحلہ وار ختم کیا جائے گا۔

6۔ امریکی فوجی موجودگی میں کمی

حتمی معاہدے کے بعد خطے میں امریکی فوجی موجودگی کم کرنے پر غور کیا جائے گا۔

7۔ آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی

ایران اس بات کو یقینی بنائے گا کہ تجارتی جہاز بلا رکاوٹ اور محفوظ طریقے سے گزر سکیں۔

8۔ علاقائی بحری تعاون

خلیجی اور علاقائی سمندری سلامتی کے لیے مشترکہ تعاون کے طریقہ کار وضع کیے جائیں گے۔

9۔ ایران کی معاشی بحالی

ایران کی معیشت کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے بڑے مالی اور اقتصادی منصوبوں پر کام کیا جائے گا۔

10۔ پابندیوں میں نرمی

امریکہ اور بین الاقوامی برادری ایران پر عائد بعض پابندیوں کو مرحلہ وار ختم کریں گے۔

11۔ جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی

ایران دوبارہ اس عزم کا اظہار کرے گا کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔

12۔ بین الاقوامی نگرانی

ایران کے جوہری پروگرام کی نگرانی بین الاقوامی ادارہ برائے جوہری توانائی (IAEA) کے تحت کی جائے گی۔

13۔ عمل درآمد کا مشترکہ نظام

معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد اور نگرانی کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی قائم کی جائے گی۔

14۔ اقوام متحدہ کی توثیق

حتمی معاہدے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے بین الاقوامی قانونی حمایت دی جائے گی۔

خلاصہ

یہ 14 نکاتی دستاویز ابھی حتمی امن معاہدہ نہیں بلکہ ایک ابتدائی فریم ورک ہے، جس کا مقصد جنگی کشیدگی ختم کرنا، مذاکرات کا راستہ کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں اور علاقائی سلامتی جیسے اہم معاملات پر مستقل حل کی طرف پیش رفت کرنا ہے۔


 

No comments

Powered by Blogger.